Saturday, 13 August 2022

بے دل و بے اماں پڑے ہوئے ہیں

 بے دل و بے اماں پڑے ہوئے ہیں

ہم کہیں خونچکاں پڑے ہوئے ہیں

ہم ہیں مردِ نبرد، افگنِ عشق

ہم ہی کھا کر سِناں پڑے ہوئے ہیں

کیا ضعیفی کو قتل گاہ سے راہ

چار سُو نوجواں پڑے ہوئے ہیں

خاک زادے بھی فرشِ مقتل پر

اوڑھ کر آسماں پڑے ہوئے ہیں

یعنی ہمزاد رو رہا تھا یہاں

آئینے پر نشاں پڑے ہوئے ہیں

اک طرف ماتمی زمیں پہ نڈھال

اک طرف نوحہ خواں پڑے ہوئے ہیں

دشت! مشتاقِ آبلہ پائی

پاؤں میں امتحاں پڑے ہوئے ہیں

خوش قدم کون ہے کہ رستے میں

افق و کہکشاں پڑے ہوئے ہیں

ہوش میں کب یہاں پہنچتے میاں

بے خودی میں جہاں پڑے ہوئے ہیں

کوچۂ دل ہے، دیکھ بھال کے چل

جا بجا رفتگاں پڑے ہوئے ہیں

ایک چوکھٹ ہے جس پہ ہم سے فقیر

بالیقیں، بے گماں پڑے ہوئے ہیں


عارف امام

No comments:

Post a Comment