Saturday, 13 August 2022

جیسا موڈ ہو ویسا منظر ہوتا ہے

 جیسا موڈ ہو ویسا منظر ہوتا ہے

موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے

جانے کون گزرتا ہے اس رستے سے

یہ رستہ ہر روز منور ہوتا ہے

درد کے مارو اتنا ضبط نہیں کرتے

تھوڑا سا رو لینا بہتر ہوتا ہے

ساحِل پر کچھ ہاتھ ہلانے والے لوگ

اور آنکھوں میں کُھلا سمندر ہوتا ہے

چاہے کوئی جتنا تڑپے، یاد کرے

بھولنے والے کا دل پتھر ہوتا ہے

کم پانی میں تیر نہیں سکتا اعجاز

گہرے پانی کا جو شناور ہوتا ہے


عزیز اعجاز

No comments:

Post a Comment