جیسا موڈ ہو ویسا منظر ہوتا ہے
موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے
جانے کون گزرتا ہے اس رستے سے
یہ رستہ ہر روز منور ہوتا ہے
درد کے مارو اتنا ضبط نہیں کرتے
تھوڑا سا رو لینا بہتر ہوتا ہے
ساحِل پر کچھ ہاتھ ہلانے والے لوگ
اور آنکھوں میں کُھلا سمندر ہوتا ہے
چاہے کوئی جتنا تڑپے، یاد کرے
بھولنے والے کا دل پتھر ہوتا ہے
کم پانی میں تیر نہیں سکتا اعجاز
گہرے پانی کا جو شناور ہوتا ہے
عزیز اعجاز
No comments:
Post a Comment