بے دلوں سے یہ کمی شاہد رعنا ہو کر
جاں مُردوں سے چھپاتے ہو مسیحا ہو کر
پاسِ کافر ہے مجھے خاطرِ دیندار بھی ہے
روز کعبہ کو میں جاتا ہوں کلیسا ہو کر
ہم تِری تیغ کو کیا یاد کریں گے قاتل
پانی پیاسوں کو پلاتی نہیں دریا ہو کر
سرکشی عالم ایجاد میں بے جا ہے اسیر
سینکڑوں خاک میں پنہاں ہوئے پیدا ہو کر
اسیر لکھنوی
No comments:
Post a Comment