اداس لوگو
ہمیں بتاؤ
ہمارے مسئلہ کا حل نکالو
ہماری آنکھیں جو دیکھتی ہیں
کیا حقیقت میں ایسا ہو گا؟
کیا سب کو یکساں دکھائی دے گا؟
وہ دستکیں جو میں سُن رہا ہوں
کیا تم کو بھی سب سنائی دے گا؟
اداس لوگو! ہمیں بتاؤ
تباہی آگے کو چل رہی ہے
یا اپنی سمتیں بدل رہی ہے
اسی تباہی کو اپنی خوشیاں سمجھنے والو
یہ ساری خوشیاں نگل رہی ہے
ہماری نسلوں کی ہر تمنا کو کھا رہی ہے
محیط اپنا بسیط اپنا
امید اور یقین کی صورت
قرارِ جاں کا ثبوت سب کچھ
بدل رہا ہے
ہمارے ایمان کی ساری قدروں کو
داؤ پر یہ لگا چکی ہے
اداس لوگو! پلٹ کے دیکھو
ذرا، ذرا سا سنبھل کے دیکھو
تباہی سمتیں بدل رہی ہے
اداس لوگو! سنبھل کے دیکھو
نفس پرستو! غرض کے غاروں سے
اک گھڑی پل نکل کے دیکھو
یہ وقت دیکھو نکل نہ جائے
ابھی بھی تھوڑا سنبھل کے دیکھو
اداس لوگو! مجھے بتاؤ
بس ایک مسئلہ کا حل نکالو
طاہرہ الطاف
No comments:
Post a Comment