Saturday, 13 August 2022

موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا ہے

 ملی/قومی گیت/نغمہ


موج بڑھے یا آندھی آئے، دِیا جلائے رکھنا ہے

گھر کی خاطر سو دُکھ جھیلیں، گھر تو آخر اپنا ہے


بال بکھیرے اُتری برکھا، رُوپ لُٹاتا چاند

کیا پل بھر کو اُٹھی آندھی، تارے پڑ گئے ماند

رات کٹھن یا دن ہو بوجھل، ہنستے گاتے چلنا ہے

گھر کی خاطر سو دُکھ جھیلیں گھر تو آخر اپنا ہے


لہروں لہروں اُترا سُورج، بستی بستی رُوپ

جاگ اُٹھے تیرے موتی مونگے، ناچ رہی کیا دُھوپ

ناؤ بڑھا، پتوار اُٹھا کے سات سمندر مچنا ہے

گھر کی خاطر سو دُکھ جھیلیں گھر تو آخر اپنا ہے


اسد محمد خان

پاکستانی قوم اور پاکستان سے محبت کرنے والوں کو پچھترواں یوم آزادی مبارک ہو

No comments:

Post a Comment