Wednesday, 3 January 2024

خطۂ خاک پہ افلاک بچھائے گئے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


خطۂ خاک پہ افلاک بچھائے گئے ہیں

پھر مدینے کے گلی کُوچے بنائے گئے ہیں

پاؤں بھی دھیرے سے دھر، سانس بھی آہستہ کھینچ

حاضری کے یہی آداب سکھائے گئے ہیں

ہر قدم سر یہاں سجدے میں جُھکاتا ہوا چل

اس گلی سے مِرے سرکارؐ بھی آئے گئے ہیں

سنگ ریزوں پہ چڑھایا گیا سونے کا ورق

پھر یہ سرکارؐ کی جوتی سے لگائے گئے ہیں

باغِ جنت میں اگے تھے سبھی خرمے کے درخت

سارے زیتون یہاں بعد میں لائے گئے ہیں


عارف امام 

No comments:

Post a Comment