عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خطۂ خاک پہ افلاک بچھائے گئے ہیں
پھر مدینے کے گلی کُوچے بنائے گئے ہیں
پاؤں بھی دھیرے سے دھر، سانس بھی آہستہ کھینچ
حاضری کے یہی آداب سکھائے گئے ہیں
ہر قدم سر یہاں سجدے میں جُھکاتا ہوا چل
اس گلی سے مِرے سرکارؐ بھی آئے گئے ہیں
سنگ ریزوں پہ چڑھایا گیا سونے کا ورق
پھر یہ سرکارؐ کی جوتی سے لگائے گئے ہیں
باغِ جنت میں اگے تھے سبھی خرمے کے درخت
سارے زیتون یہاں بعد میں لائے گئے ہیں
عارف امام
No comments:
Post a Comment