Tuesday, 11 May 2021

دھڑکا تھا دل کہ پیار کا موسم گزر گیا

 دھڑکا تھا دل کہ پیار کا موسم گُزر گیا

ہم ڈُوبنے چلے تھے کہ دریا اُتر گیا

خوابوں کی وہ متاعِ گراں کس نے چھین لی

کیا جانیے وہ نیند کا عالم کدھر گیا

تم سے بھی جب نشاط کا اک پَل نہ مل سکا

میں کاسۂ سوال لیے در بدر گیا

بھُولے سے کل جو آئینہ دیکھا تو ذہن میں

اک مُنہدم مکان کا نقشہ اُتر گیا

تیز آندھیوں میں پاؤں زمیں پر نہ ٹِک سکے

آخر کو میں غُبار کی صُورت بکھر گیا

گہرا سکوت، رات کی تنہائیاں، کھنڈر

ایسے میں اپنے آپ کو دیکھا تو ڈر گیا

کہتا کسی سے کیا کہ کہاں گھُومتا پھِرا

سب لوگ سو گئے تو میں چُپکے سے گھر گیا


نشتر خانقاہی

No comments:

Post a Comment