Tuesday, 11 May 2021

اک حسن بے مثال کے جو روبرو ہوں میں

 اک حسن بے مثال کے جو روبرو ہوں میں

محسوس ہو رہا ہے خود اپنا عدو ہوں میں

اپنی گرفت شوق سے نکلوں تو کس طرح

پھیلا ہوا جہان میں ہر ایک سو ہوں میں

مجھ پہ تِری حیات کا دار و مدار ہے

جذبوں سے جھانکتا ہوا زندہ لہو ہوں میں

گونجوں گا تیرے ذہن کے گنبد میں رات دن

جس کو نہ تو بھلا سکے وہ گفتگو ہوں میں

ہر صبح ایک معرکۂ کربلا سہی

ہر شام اپنے دوستوں میں سرخرو ہوں میں

پوچھوں میں کس سے عالم امکاں میں کس لیے

اپنے ہی نقش پا کی طرح کو بہ کو ہوں میں

سیفیؔ میں اپنے آپ میں نیلام ہو گیا

کس کو خبر تھی شہر میں اک خوبرو ہوں میں


بشیر سیفی

No comments:

Post a Comment