Saturday, 19 March 2022

ہوا کا جھونکا جو ہے مرا غم شناس اب تک ذرا ذرا سا

 ہوا کا جھونکا جو ہے مرا غم شناس اب تک ذرا ذرا سا

مِری طرح اس گلی میں ہے بے حواس اب تک ذرا ذرا سا

سنا سنا کر لطیفے خود کو، میں قہقہے تک تو آ گیا ہوں

تمہارا ٹھکرایا دل ہے لیکن اداس اب تک ذرا ذرا سا

کسی کے ہمراہ تیز بارش میں بھیگ کر شعر کہہ رہا ہوں

مجھے تِرے بعد بھی یہ موسم ہے راس اب تک ذرا ذرا سا

کل اتفاقاً جو ہاتھ آئی، وصال شب تھی! کمال شب تھی

تِری مہک سے مہک رہا ہے لباس اب تک ذرا ذرا سا

جلو میں ہم اپنی کیا بلا تھے یہ شہرِ خوباں سے پوچھئے گا

ہمارے بارے میں کر رہا ہے قیاس اب تک ذرا ذرا سا

اسے مِرے پاس سے گئے جانے کتنی گھڑیاں گزر چکی ہیں

مہک رہا ہے وہی مگر آس پاس اب تک ذرا ذرا سا

یہ ساری ذیشان اس کی مخمور آنکھوں کی شعبدہ گری ہے

بھرا بھرا لگ رہا ہے خالی گلاس اب تک ذرا ذرا سا


ذیشان الٰہی

No comments:

Post a Comment