Saturday, 19 March 2022

حد امکاں سے آگے اپنی حیرانی نہیں جاتی

 حد امکاں سے آگے اپنی حیرانی نہیں جاتی

نہیں جاتی نظر کی پا بہ جولانی نہیں جاتی

لب خاموش ساحل سے سکوں کا درس ملتا ہے

مگر امواج دریا کی پریشانی نہیں جاتی

جہاں پہلے کبھی سب گوش بر آواز رہتے تھے

وہاں بھی اب مِری آواز پہچانی نہیں جاتی

حقیقت کچھ تو اپنی آبرو کا پاس ہو تجھ کو

ہزاروں پیرہن ہیں پھر بھی عریانی نہیں جاتی

نہیں تعظیم کے لائق نہیں تکریم کے قابل

وہ در جس کی طرف خود کھنچ کے پیشانی نہیں جاتی

سکوں ہوتا تو ہے پھر بھی سکوں حاصل نہیں ہوتا

کہ جانے کی طرح اپنی پریشانی نہیں جاتی


منور لکھنوی

منشی بشیشور پرشاد

No comments:

Post a Comment