کوئی رسوائی کا ساماں نہیں ہونے دیتی
جذبۂ عشق کو عریاں نہیں ہونے دیتی
فاصلوں میں بھی میں رکھتی ہوں توازن قائم
قربتوں کو بھی پشیماں نہیں ہونے دیتی
میں کبھی حد سے گزرنے نہیں دیتی اس کو
اور کبھی خود سے گریزاں نہیں ہونے دیتی
سو جتن کر کے میں رکھتی ہوں بندھائے ہوئے آس
اس کو مایوس و پریشاں نہیں ہونے دیتی
مٹنے دیتی نہیں آنکھوں سے شناسائی کا رنگ
آئینے کو کبھی حیراں نہیں ہونے دیتی
درد جو اس نے دئیے پال کے رکھتی ہوں انہیں
اپنی پلکوں پہ چراغاں نہیں ہونے دیتی
پیار تو کرتی ہوں دل سے اسے عینی لیکن
میں کبھی چاک گریباں نہیں ہونے دیتی
عینی زا سید
No comments:
Post a Comment