Saturday, 19 March 2022

کوئی رسوائی کا ساماں نہیں ہونے دیتی

 کوئی رسوائی کا ساماں نہیں ہونے دیتی

جذبۂ عشق کو عریاں نہیں ہونے دیتی

فاصلوں میں بھی میں رکھتی ہوں توازن قائم

قربتوں کو بھی پشیماں نہیں ہونے دیتی

میں کبھی حد سے گزرنے نہیں دیتی اس کو

اور کبھی خود سے گریزاں نہیں ہونے دیتی

سو جتن کر کے میں رکھتی ہوں بندھائے ہوئے آس

اس کو مایوس و پریشاں نہیں ہونے دیتی

مٹنے دیتی نہیں آنکھوں سے شناسائی کا رنگ

آئینے کو کبھی حیراں نہیں ہونے دیتی

درد جو اس نے دئیے پال کے رکھتی ہوں انہیں

اپنی پلکوں پہ چراغاں نہیں ہونے دیتی

پیار تو کرتی ہوں دل سے اسے عینی لیکن

میں کبھی چاک گریباں نہیں ہونے دیتی


عینی زا سید

No comments:

Post a Comment