اگر ان کو ہے بھروسہ کہ ہے ساتھ اک زمانہ
تو ہمیں بھی ہے خدا سے رہ و رسمِ غائبانہ
مِری سرگزشت سن کر، جو کہا تو صرف اتنا
وہی کوہ کن کا قصہ وہی قیس کا فسانہ
یہاں دعویٔ زباں کیا، سرِ نالہ و فغاں کیا
ہی نفس کی آمد و شد مجھے آہ کا بہانہ
ہمیں کیا خبر وفا کی کہ شہید ہیں نہ غازی
نہ سخن قلندرانہ نہ عمل مجاہدانہ
وہی گھرجلا رہے ہیں کہ مکیں ہیں جس کے خود ہم
وہی شاخ کاٹتے ہیں کہ ہے جس پہ آشیانہ
کوئی ایک دل دکھی ہو تو کہاں کا عیش یارو
کوئی ایک فاقہ کش ہو، تو حرام آب و دانہ
نہیں ایسی شاعری سے سروکار مجھ کو انجم
مِرا شعر اگر نہیں ہے تِرے دل کو تازیانہ
انجم رومانی
No comments:
Post a Comment