Saturday, 19 March 2022

رہے گا دن کا تصور نہ شہر شب کا وجود

 رہے گا دن کا تصور نہ شہرِ شب کا وجود

مٹے گا موج قیامت میں اب کے سب کا وجود

یہ وہ ادب ہے جسے گردباد کہتے ہیں

یہاں تلاش نہ کر دوستا ادب کا وجود

وہ سبز جھیل سی آنکھیں وہ سرخ پھول سے لب

تیرا وجود ہے جاناں بڑے غضب کا وجود

اب آ بھی جائیں بہاریں تو کیا غرض مجھ کو

مٹا چکا ہوں میں اپنی ہر اک طلب کا وجود

اے کوزہ گر یہ نہیں لازمی کہ روز بگاڑ

مجھ ایسے کمتر و بے کار و بے سبب کا وجود

نبھا رہا ہوں یہ سانسیں کسی کے کہنے پر

وگرنہ پھونک چکا ہوتا میں بھی کب کا وجود

اسے نہ پھینک سمندر کے پانیوں میں علی

کہ یہ وجود تو لگتا ہے مستحب کا وجود

نہیں وہ گرچہ مجسم مگر علی قیصر

ہر اک مقام پہ دیکھا ہے ہم نے رب کا وجود


علی قیصر رومی

No comments:

Post a Comment