سنو لوگو
کہانی آج میں اپنی سناتا ہوں
ہوا کچھ یوں
کہ اک نازک پری صورت پہ دل آیا
ہوا کچھ یوں
کہ اپنے دل کو میں نے خوب سمجھایا
نہیں مانا
وہ میری بات کو اور مجھ سے یوں بولا
سنا دو حالِ دل اُس کو اسے اپنا بنا لو تم
سو
سارا ماجرہ جیسا تھا ویسے ہی سنا ڈالا
وہ پھر نازک پری صورت
مخاطب ہو کے یوں بولی
سنو اے پیار میں پاگل
مجھے کچھ بھی نہیں آتا
فقط اک کام آتا ہے
کہ میں پاگل بناتی ہوں
بنو گے تم
ہاں، بنوں گا میں
میں تم سے پیار کرتا ہوں
بھلے یہ جان ہی لے لو
بھلے پاگل بنا ڈالو
بنانا جو بھی آتا
مجھے تم وہ بنا ڈالو
سو
ایسا ہی کیا اس نے
تو گویا سچ کہا تھا کہ
فقط پاگل بناتی ہوں
سو مجھ کو بھی بنا ڈالا
محبت پر بھروسہ تھا
بھروسہ اب نہیں باقی
زمانہ ہو گیا لیکن
اسے فرصت نہیں اب بھی
وہی اک کام ہے اس کا
کہ وہ پاگل بناتی ہے
مگر
میں اب نہیں بنتا
ہاں وہ اب لاکھ دھوکہ دے
تو میں دھوکہ نہیں کھاتا
محبت اب بھی ہے لیکن
کسی ایسے کو پانے کی
تمنا اب نہیں کرتا
مگر اس کے لیے دانی
دعا گو ہوں سُدھر جائے
کہ سننے میں یہ آتا ہے
کہ دھوکے میں جو رکھتا ہے
وہ دھوکہ خود بھی کھاتا ہے
وہ پاگل خود بھی بنتا ہے
جو لوگوں کو بناتا ہے
فقیر دانیال بیگ
دانیال بیگ دانی
No comments:
Post a Comment