Saturday, 19 March 2022

بوئے گل باد صبا لائی بہت دیر کے بعد

 بوئے گل باد صبا لائی بہت دیر کے بعد

میرے گلشن میں بہار آئی بہت دیر کے بعد

چھپ گیا چاند تو جلووں کی تمنا ابھری

آرزوؤں نے لی انگڑائی بہت دیر کے بعد

نرگسی آنکھوں میں یہ اشک ندامت توبہ

موج مے شیشوں میں لہرائی بہت دیر کے بعد

صحن گلشن میں حسیں پھول کھلے تھے کب سے

ہم ہوئے خود ہی تماشائی بہت دیر کے بعد

مہر و شبنم میں ملاقات ہوئی وقت سحر

زندگی موت سے ٹکرائی بہت دیر کے بعد

مئے گل بٹ گئی آسودہ لبوں میں پہلے

تشنہ کاموں میں شراب آئی بہت دیر کے بعد

ذہن بھٹکا کیا دشت غم دوراں میں سلام

شب غم نیند مجھے آئی بہت دیر کے بعد


سلام سندیلوی

No comments:

Post a Comment