Saturday, 19 March 2022

پھیلی ہوئی ہیں دور تک بے حس تمازتیں

 پھیلی ہوئی ہیں دور تک بے حس تمازتیں

کیسے کٹیں گی زیست کی لمبی مسافتیں

خاموش لب، گریز پا، بے گانگی، جنوں

کرنی ہیں مجھ کو خود سے اب ایسی عداوتیں

دیکھا ہے اس کو جس کے تبسم کے فیض سے

قائم ہیں صحن گل میں گلوں کی صباحتیں

الفاظ کی تپش سے وہی خواب جل گیا

جس خواب میں ہوئی تھیں وفا کی بشارتیں

آئی ہے کوئے یار سے وہ موج بے صدا

سیراب کر گئی جو دلوں کی سماعتیں

سر ہو سجود میں تو نظر ہو قیام میں

یا رب نصیب ہوں مجھے ایسی عبادتیں

بادِ سموم ہی میری تقدیر تھی حیا

مجھ کو نہ راس آئیں صبا کی رفاقتیں


ثریا حیا

No comments:

Post a Comment