دھند سے کلام
چند لمحوں کی باتیں کریں گے کبھی
جن کے اظہار کو سال درکار ہیں
ہم جو قطروں میں پیتے ہیں آبِ حیات
کب سرابوں میں مل جائیں ہم
کیا خبر
ہم نے دیکھا ہے
وہ بھی بہت پاس سے
ایک مولود کو دھند ہوتے ہوئے
اس بخارات بننے کے پراسس سے ہم
نا بلد تو نہیں
ہم جو سالوں میں لمحے تلاشا کیے
مل گئے
اور ملتے رہے ہیں مگر
ہم کہ اظہار کرتے نہیں
ایک مولود سے
ہم کہ تھکتے نہیں
دھند تکتے ہوئے
دھند سے بات کرتے ہوئے
اتنے مصروف ہیں
کچھ فراغت کے لمحات ملتے نہیں
ان مہ و سال میں
سال کیسے ملیں گے ہمیں
بلال اسود
No comments:
Post a Comment