آیت سناؤ صبر کی کوئی قران سے
ورنہ الجھ پڑوں گا میں سارے جہان سے
وہ شام آج تک مِرے سینے پہ نقش ہے
اک شخص پھر گیا تھا جب اپنی زبان سے
بے وجہ مبتلا ہیں مِرے خوف میں حریف
میں بات کرنے آیا تھا کچھ آسمان سے
اک روز مجھ کو آ کے خبر دی تھی دھوپ نے
محروم ہو گیا ہوں میں اک سائبان سے
احسن سلیمان
No comments:
Post a Comment