Tuesday, 7 September 2021

ان وفاؤں کا فقط اتنا صلہ دے ہم کو

 ان وفاؤں کا فقط اتنا صلہ دے ہم کو

پیار گر جرم ہے تو آ کے سزا دے ہم کو

تیرے عاشق، تِری قسمت، تِری منزل ہیں ہم

ہیں اگر بیچ کی دیوار گرا دے ہم کو

پیکرِ خاک ہیں جاناں کہ ہیں واقف اس سے

دھول صحرا کی سمجھ کر ہی اڑا دے ہم کو

اب کہ دکھ اوڑھ کے سو جاتے ہیں تنہا ہم بھی

تھام کر ہاتھ کسی روز جگا دے ہم کو

پے بہ پے تُو نے تو اقرارِ وفا کر ڈالا

اس خوشی سے ہی نہ مر جائیں دغا دے ہم کو

یہ محبت تو ضرورت ہے فقط جسموں کی

آگ اس میں نہیں مجنوں جو بنا دے ہم کو


احمد رئیس کشمیری

No comments:

Post a Comment