بزمِ یاراں سے نکلتے ہیں پریشاں دیکھیۓ
کوئی مجنوں، کوئی عاشق، يا غزلخواں دیکھیۓ
ہوں صفِ عشّاق سے میں اک پشیماں دیکھیۓ
ہے یقیں تجھ کو نہیں چاک گریباں دیکھیۓ
خوب صورت لگ رہا ہے راہِ الفت دور سے
کر رہے قصدِ سفر کتنے ہیں مہماں دیکھیۓ
نام پر مذہب کے میں نے کاٹ ڈالی گردنیں
اور خود کو کہہ رہا ہوں کیسے انساں دیکھیۓ
اور بھی لاکھوں مصائب ہیں محبت کے سوا
آدمی کا لازمی ہونا پریشاں دیکھیۓ
احمد رئیس کشمیری
No comments:
Post a Comment