Thursday, 16 September 2021

ہمیں پتہ ہے کہ غدار لکھا جائے گا

 ہمیں پتہ ہے کہ غدار لکھا جائے گا

مگر جو سچ ہے وہ ہر بار لکھا جائے گا

پہنچنے والے پہنچ جائیں گے معانی تک

غزل میں گیسُو و رُخسار لکھا جائے گا

لباسِ مکر و ریا کی جو بات ہو گی کبھی

تو شیخ! "جبہ و دستار" لکھا جائے گا

امیرِ شہر مِرے ہاتھ تُو جو آئے کبھی

تِری جبین پہ مکار لکھا جائے گا

مِرا قلم مِرے اسلاف کی امانت ہے

مِرے قلم کو بھی تلوار لکھا جائے گا

مِری نگاہ کی وُسعت سے بے خبر ہو تم

پڑھوں گا جو پسِ دیوار لکھا جائے گا

صبا کو مصلحتِ وقت سے ڈراؤ نہیں

جو ہو گا ہو گا ارے یار لکھا جائے گا


کامران غنی صبا

No comments:

Post a Comment