Thursday, 16 September 2021

کسی دن جب تھکن سے چور ہو کر آؤں گی

 تُو شاہ میرا ہے


کسی دن جب تھکن سے

چُور ہو کر آؤں گی

پھر میں تِرے در پر

تِرے شانے پہ سر رکھ کر

میں سب رنج و الم اپنے

میں اپنی ساری مجبوری

میں اپنی ساری محرومی

پھر اشکوں کو بہاؤں گی

وہ میرا درد دُکھ سارا

رگوں میں لاوا بن کر

جو اُبلتا ہے

تُو میرا سائیں ہے

اور شاہ میرا ہے

میں لفظوں کی بھکارن ہوں

یہ کاسہ خالی ہے میرا

مجھے خیرات لفظوں کی مِرے سائیں

ذرا دینا

مِرے کاسے کو بھر دینا


دعا علی

No comments:

Post a Comment