جو وصل میں کبھی تھا وہ حاصل نہیں رہا
یعنی قرار، چین، سکون دل نہیں رہا
ہم بھی غروب ہو گئے مثلِ آفتاب کے
اس کا بھی حسن رونقِ محفل نہیں رہا
بکھرا پڑا ہے چار سُو تیرے فراق میں
اب تو مِرا وجود بھی کامل نہیں رہا
میں دیکھتا رہا ہوں تجھے اشتیاق سے
لیکن میں تیری راہ میں حائل نہیں رہا
دریائے زیست کی بھی منازل عجیب تھیں
پہنچے جو ہم قریب تو ساحل نہیں رہا
بستے ہیں اس میں لوگ منافق مزاج کے
یہ شہر اب قیام کے قابل نہیں رہا
اقبال شاہ
No comments:
Post a Comment