Thursday, 16 September 2021

جو وصل میں کبھی تھا وہ حاصل نہیں رہا

 جو وصل میں کبھی تھا وہ حاصل نہیں رہا

یعنی قرار، چین، سکون دل نہیں رہا

ہم بھی غروب ہو گئے مثلِ آفتاب کے

اس کا بھی حسن رونقِ محفل نہیں رہا

بکھرا پڑا ہے چار سُو تیرے فراق میں

اب تو مِرا وجود بھی کامل نہیں رہا

میں دیکھتا رہا ہوں تجھے اشتیاق سے

لیکن میں تیری راہ میں حائل نہیں رہا

دریائے زیست کی بھی منازل عجیب تھیں

پہنچے جو ہم قریب تو ساحل نہیں رہا

بستے ہیں اس میں لوگ منافق مزاج کے

یہ شہر اب قیام کے قابل نہیں رہا


اقبال شاہ

No comments:

Post a Comment