جو اپنا تھا اس کا بھی ستم خوب رہا ہے
غیروں میں وہ اس واسطے محبوب رہا ہے
آتا ہے مِرے جی میں کہ میں اس کو بھلا دوں
وہ شوخ مِرے دل کو جو مطلوب رہا ہے
جس پیار کی خاطر ہوا بے گانہ میں تم سے
اس پیار سے اب جی مِرا کیوں اوب رہا ہے
تم جتنی بھی تفریق کی دیواریں اٹھا دو
یہ میرا وطن پیار سے منسوب رہا ہے
جب میری نظر تیری نظر سے ہوئی دوچار
چلمن کو گرانا تِرا کیا خوب رہا ہے
آئے ہیں تو خاموش ہی رہیۓ میاں قیصر
حق بولنے والا سدا معتوب رہا ہے
امتیاز قیصر
No comments:
Post a Comment