دردِ دل کی کبھی تشہیر نہ ہونے دینا
سایۂ غم کو تو زنجیر نہ ہونے دینا
یار! اچھا تو نہیں روز کا آنا جانا
کم کبھی اپنی ہی توقیر نہ ہونے دینا
ہے وطن اپنا جسے سینچا لہو سے سب نے
اس کو یوں غیر کی جاگیر نہ ہونے دینا
گر تصور میں سجائے ہیں کئی شیش محل
خواب آنکھوں کے ہیں، تعمیر نہ ہونے دینا
غم کے بادل ہیں تو کچھ دیر میں چھٹ جاٸیں گے
دل کو اس طرح تو دلگیر نہ ہونے دینا
مجھ کو دو گز ہی سہی کوئی ٹھکانہ دے دے
میرے مالک مجھے رہگیر نہ ہونے دینا
احمد رئیس کشمیری
No comments:
Post a Comment