مجھ کو شاہی نہیں توفیق فقیرانہ دے
رکھ مجھے بزم میں چاہے مجھے ویرانہ دے
بھر دے بھرنا ہے اگر عشق کا سودا سر میں
مجھ کو دینا ہے اگر جرأتِ رِندانہ دے
آخرش حد بھی ہے ایثار کی کوئی کہ نہیں
شمع پر جان کہاں تک کوئی پروانہ دے
یہ نہ اٹھیں گے کبھی سطح سے اپنی اوپر
ان خرد والوں کو شہ کتنی بھی دیوانہ دے
عدل و انصاف روا تا کہ دوبارہ ہو جائیں
فیصلہ کرنے نہ منصف کو بھی من مانا دے
تُو جو چاہے تو بدل جائے جہاں کی تصویر
انہیں شاہوں کو جو احساس فقیہانہ دے
کس کو اپنا کہیں اور غیر کہیں کس کو نہال
دے نہ اپنا کوئی کچھ اور نہ بےگانہ دے
نہال رضوی
No comments:
Post a Comment