Thursday, 9 September 2021

مجھ کو شاہی نہیں توفیق فقیرانہ دے

 مجھ کو شاہی نہیں توفیق فقیرانہ دے

رکھ مجھے بزم میں چاہے مجھے ویرانہ دے

بھر دے بھرنا ہے اگر عشق کا سودا سر میں

مجھ کو دینا ہے اگر جرأتِ رِندانہ دے

آخرش حد بھی ہے ایثار کی کوئی کہ نہیں

شمع پر جان کہاں تک کوئی پروانہ دے

یہ نہ اٹھیں گے کبھی سطح سے اپنی اوپر

ان خرد والوں کو شہ کتنی بھی دیوانہ دے

عدل و انصاف روا تا کہ دوبارہ ہو جائیں

فیصلہ کرنے نہ منصف کو بھی من مانا دے

تُو جو چاہے تو بدل جائے جہاں کی تصویر

انہیں شاہوں کو جو احساس فقیہانہ دے

کس کو اپنا کہیں اور غیر کہیں کس کو نہال

دے نہ اپنا کوئی کچھ اور نہ بےگانہ دے


نہال رضوی

No comments:

Post a Comment