Thursday, 9 September 2021

دشت غم میں سایۂ گیسو نہ ڈھونڈ

دشت غم میں سایۂ گیسو نہ ڈھونڈ

پتھروں میں درد کی خوشبو نہ ڈھونڈ

زندگی میں اب وہ رنگ و بو نہ ڈھونڈ

گل ادا گل پیرہن گل رو نہ ڈھونڈ

اپنے ہونٹوں پر تبسم کر تلاش

وقت کے رخسار پر آنسو نہ ڈھونڈ

مستیوں میں رقص طاؤس اب کہاں

شوخیوں میں وہ رم آہو نہ ڈھونڈ

موجزن ہے دل میں جو طوفاں وہ دیکھ

خشک آنکھوں میں مری آنسو نہ ڈھونڈ

ہو سکے تو اس روایت کو نہ توڑ

میں تجھے ڈھونڈوں گا مجھ کو تو نہ ڈھونڈ

دشمنوں میں بھی محاسن کر تلاش

ہم نفس تنقیص کے پہلو نہ ڈھونڈ


سید حباب ترمذی

No comments:

Post a Comment