خود اپنے آپ کو سمجھا لیا تو
کسی نے زہر ہنس کر کھا لیا تو
تو پھر کیا سانس چلنے کا سبب ہو
محل خوابوں کا بھی گر ڈھا لیا تو
تمہارے پاس سب ہوتے ہوئے بھی
تمہیں میری کمی نے آ لیا تو
وہ جس کی سوچ میں دن کٹ رہے ہیں
کسی دن اس کو تم نے پا لیا تو
تمہارے لوٹ کے آنے سے پہلے
مجھے اس ہجر نے گر کھا لیا تو
کسی کا گیت ہے پر سُر سے باہر
کسی نے سُر میں کر کے گا لیا تو
مالا راجپوت
No comments:
Post a Comment