Sunday, 4 October 2020

خود اپنے آپ کو سمجھا لیا تو

 خود اپنے آپ کو سمجھا لیا تو

کسی نے زہر ہنس کر کھا لیا تو

تو پھر کیا سانس چلنے کا سبب ہو

محل خوابوں کا بھی گر ڈھا لیا تو

تمہارے پاس سب ہوتے ہوئے بھی

تمہیں میری کمی نے آ لیا تو

وہ جس کی سوچ میں دن کٹ رہے ہیں

کسی دن اس کو تم نے پا لیا تو

تمہارے لوٹ کے آنے سے پہلے

مجھے اس ہجر نے گر کھا لیا تو

کسی کا گیت ہے پر سُر سے باہر

کسی نے سُر میں کر کے گا لیا تو


مالا راجپوت

No comments:

Post a Comment