چائے چولہے پر تھی اور تھا دھیان گلی میں
آنے والا تھا کوئی مہمان گلی میں
میں یہ جان کے اپنے گھر سے نکل پڑی تھی
اس سے ہونے والی ہے پہچان گلی میں
جس کو ہم پڑھ پڑھ کے راتوں کو روتے تھے
پھینک دیا ہے میر کا وہ دیوان گلی میں
فقر کے طالب اپنے حجرے میں بیٹھے ہیں
پھرتے ہیں کشکول لیے سلطان گلی میں
اِس بستی کے گھر گھر میں آسیب بسے ہیں
اور میں ڈھونڈ رہی ہوں کچھ انسان گلی میں
ایک چونّی چوڑیاں اور کچھ خواب ہوئے گم
ہوتا آیا ہے اپنا نقصان گلی میں
پہلے خوشیاں مانگنے جاتے تھے مندر میں
اور اب بکنے آتے ہیں بھگوان گلی میں
شاہدہ دلاور شاہ
No comments:
Post a Comment