Sunday, 4 October 2020

چائے چولہے پر تھی اور تھا دھیان گلی میں

 چائے چولہے پر تھی اور تھا دھیان گلی میں

آنے والا تھا کوئی مہمان گلی میں

میں یہ جان کے اپنے گھر سے نکل پڑی تھی

اس سے ہونے والی ہے پہچان گلی میں

جس کو ہم پڑھ پڑھ کے راتوں کو روتے تھے

پھینک دیا ہے میر کا وہ دیوان گلی میں

فقر کے طالب اپنے حجرے میں بیٹھے ہیں

پھرتے ہیں کشکول لیے سلطان گلی میں

اِس بستی کے گھر گھر میں آسیب بسے ہیں

اور میں ڈھونڈ رہی ہوں کچھ انسان گلی میں

ایک چونّی چوڑیاں اور کچھ خواب ہوئے گم

ہوتا آیا ہے اپنا نقصان گلی میں

پہلے خوشیاں مانگنے جاتے تھے مندر میں

اور اب بکنے آتے ہیں بھگوان گلی میں


شاہدہ دلاور شاہ

No comments:

Post a Comment