ابھی اک کام نمٹانا ہے مجھ کو
کسی کو دل میں دفنانا ہے مجھ کو
تُو میرا درد سننے آیا ہے؟ یا
تجھے بھی صرف سمجھانا ہے مجھ کو
وہ اٹھ کے چل دیا، تو یاد آیا
اسے کچھ اور بتلانا ہے مجھ کو
کسی کی آنکھ کیوں پتھر ہوئی ہے
کسی کو یہ بھی دکھلانا ہے مجھ کو
بچھڑنے میں ابھی کچھ پل ہیں باقی
پھر اس کے بعد گھبرانا ہے مجھ کو
کسی کے درد پہ لکھ لکھ کے نظمیں
تو کیا اس پہ بھی اِترانا ہے مجھ کو؟
میں زندہ ہوں، مگر کب جی رہی ہوں
یوں پھر اک روز مر جانا ہے مجھ کو
مالا راجپوت
No comments:
Post a Comment