روٹھ جانا تو کبھی اس کو مناتے رہنا
دور جا کے اسے خوابوں میں بلاتے رہنا
گر یہی ضد ہے تمہاری تو مِرے ساتھ رہو
پر مجھے ہجر کا احساس دلاتے رہنا
اس کا کہنا کہ کوئی بات نہیں سننی اب
میرا اک بات اسے روز سناتے رہنا
اس کو کہنا کہ کوئی بات بتانی ہے تمہیں
بات کو اور کسی سمت گھماتے رہنا
ٹوٹ کے رونا کبھی تم سے سبھی دکھ کہنا
کبھی تم سے ہی سبھی اشک چھپاتے رہنا
سوچتے رہنا مِرا، تم ہی مِری دنیا ہو
دنیا کیسی ہے ، تمہارا یہ بتاتے رہنا
میں خدا سے یہ کہوں گی کہ تمہیں سن پاؤں
تم مِری قبر پہ کچھ روز تو آتے رہنا
مالا راجپوت
No comments:
Post a Comment