یہ ایک کام نہیں ہو سکا ذرا تجھ سے
کہ عشق مرتے ہوئے بھی نہیں مِرا تجھ سے
مٹا رہی ہے کوئی بیل اس کو اندر سے
تبھی وہ پیڑ نہیں ہو رہا ہرا تجھ سے
ذرا سا بیٹھ ابھی اور بات کر مجھ سے
حسین شخص مرا دل نہیں بھرا تجھ سے
تجھے یہ دوغلے چہروں میں یاد آئے گا
کہ ایک شخص ملا تھا بہت کھرا تجھ سے
کبھی تو مجھ کو تِری باتوں سے یہ لگتا ہے
نہیں کوئی بھی نہیں ہے یہاں برا تجھ سے
اگر تو چاہے بھی اب نہ سمیٹ پائے گا
تجھے خبر ہی نہیں وہ کہاں گرا تجھ سے
مالا راجپوت
No comments:
Post a Comment