Tuesday, 17 November 2020

تھی چال حشر میں بھی قیامت حضور کی

تھی چال حشر میں بھی قیامت حضور کی

سچ پوچھیے تو جھینپ گئی آنکھ حور کی

سچ ہے کہ راز وصل چھپانا نہیں ہے سہل

میں کیا کہوں جو کہتی ہے چتون حضور کی

جانے سے دل کے کیوں نہ ہو ویران بزم عیش

شب بھر اسی سے رہتی تھی باتیں حضور کی

غش آج آ گیا ہے خدا جانے کل ہو کیا

موسیٰ اب اور سیر کرو کوہ طور کی

جنت میں پوچھتے ہوئے جاوید ہم چلے

دوکان کس طرف ہے شراب طہور کی


جاوید لکھنوی 

No comments:

Post a Comment