Tuesday, 17 November 2020

شاعری کیسے ہوتی ہے

 شاعری


شاعری کیسے ہوتی ہے؟

قافیوں سے، بحروں سے؟

نہیں

ٹوٹے وعدوں، جھوٹے سپنوں

بیتی یادوں، بکھری باتوں

بھولی قسموں، رِستے زخموں

شبنمی لفظوں، مرہمی لہجوں

سلگتی سانسوں، الجھتی آنکھوں

مضطرب بانہوں، منتظر نگاہوں

پھیلتی رعنائیوں، سمٹتی تنہائیوں

سمہی آس سے، بہکی پیاس سے

شاعری تو

ان کہی کو کہنے کی خواہش ہے بس

تہذیب اور جبلت کی فرمائش ہے بس


اجمل صدیقی

No comments:

Post a Comment