Tuesday, 17 November 2020

قید وصل یار میں آنے سے پہلے چل نکل

 قید وصل یار میں آنے سے پہلے چل نکل

نکہت گیسو بکھر جانے سے پہلے چل نکل

کس نے دیکھا ہے تیرا ہر لمحہ مرنا ہجر میں

اب کے تو اے شمع پروانے سے پہلے چل نکل

چل نکل اے مرتد و دین وفا و عاجزی

لشکر ناز و ادا آنے سے پہلے چل نکل

خوشبو جان خیریت چاہے اگر تو چھیڑ مت

تازہ دم پاگل کے ہوجانے سے پہلے چل نکل

چل اٹھا گٹھری دیوانے بلکہ خالی ہاتھ چل

پر جہاں سے عشق اٹھ جانے سے پہلے چل نکل

جاہلوں کا مان لینا بھی ہے توہین ہنر

خود کو اے شاعر تو منوانے سے پہلے چل نکل


اجمل صدیقی

No comments:

Post a Comment