قید وصل یار میں آنے سے پہلے چل نکل
نکہت گیسو بکھر جانے سے پہلے چل نکل
کس نے دیکھا ہے تیرا ہر لمحہ مرنا ہجر میں
اب کے تو اے شمع پروانے سے پہلے چل نکل
چل نکل اے مرتد و دین وفا و عاجزی
لشکر ناز و ادا آنے سے پہلے چل نکل
خوشبو جان خیریت چاہے اگر تو چھیڑ مت
تازہ دم پاگل کے ہوجانے سے پہلے چل نکل
چل اٹھا گٹھری دیوانے بلکہ خالی ہاتھ چل
پر جہاں سے عشق اٹھ جانے سے پہلے چل نکل
جاہلوں کا مان لینا بھی ہے توہین ہنر
خود کو اے شاعر تو منوانے سے پہلے چل نکل
اجمل صدیقی
No comments:
Post a Comment