Tuesday, 17 November 2020

کسی کی یاد کا سینے سے سم نکالتے ہیں

 کسی کی یاد کا سینے سے سَم نکالتے ہیں

ہم اپنی سانس بھی اس وقت کم نکالتے ہیں

نہ پوچھ کیسے اذیت میں رات کٹتی ہے 

جب اپنی آنکھ کے ہم اشکِ غم نکالتے ہیں

سفر میں دھوپ کی شدت بھی کیا کرے ان کا 

مکانِ دل سے جو سایہ بہم نکالتے ہیں

ہمیشہ چادرِ افلاک چھوٹی پڑتی ہے

جب اپنی ذات سے باہر قدم نکالتے ہیں

وہ بار بار نظر سے اتارتی ہے نظر

ہم اپنی جان کا صدقہ بھی کم نکالتے ہیں

جدید شعر پرانی زمین، قافیے سے

وہ کوئی اور نہیں صرف ہم نکالتے ہیں

خدا بھی ساتھ ہی رہتا ہے خانہ دل میں

تو لوگ کعبے سے کیونکر صنم نکالتے ہیں

یہ خاندانِ اسامہ کی پرورش ہے امیر 

ہمارے بچے بھی گھر سے علم نکالتے ہیں


اسامہ امیر

No comments:

Post a Comment