Monday, 16 November 2020

چاند مانگا نہ کبھی ہم نے ستارے مانگے

 چاند مانگا نہ کبھی ہم نے ستارے مانگے

بس وہ دو دن جو ترے ساتھ گزارے مانگے

صرف اک داغ تمنا کے سوا کچھ نہ ملا

دل نے کیا سوچ کے نظروں کے اشارے مانگے

ہم نے جب جام اٹھایا ہے تو وہ یاد آیا

جس کی خاطر مے و مینا کے سہارے مانگے

ڈھل گئی رات تو خواب رخ جاناں ٹوٹا

بجھ گیا چاند تو آنکھوں نے ستارے مانگے

اٹھ گئی آنکھ تو گرداب کا دل ڈوب گیا

کھل گئی زلف تو موجوں نے کنارے مانگے

رات وہ حشر گلستاں میں اٹھا ہے یارو

صبح ہر پھول نے شبنم سے شرارے مانگے


شاہد اختر

No comments:

Post a Comment