Wednesday, 16 March 2022

کچھ آدمی سماج پہ بوجھل ہیں آج بھی

 کچھ آدمی سماج پہ بوجھل ہیں آج بھی

رسی تو جل گئی ہے مگر بل ہیں آج بھی

انسانیت کو قتل کیا جائے اس لیے

دیر و حرم کی آڑ میں مقتل ہیں آج بھی

اب بھی وہی ہے رسم و روایت کی بندگی

مطلب یہ ہے کہ ذہن مقفل ہیں آج بھی

باتیں تمہاری شیخ و برہمن خطا معاف

پہلے کی طرح غیر مدلل ہیں آج بھی

راہی! ہر ایک سمت فساد و عناد کے

چھائے ہوئے فضاؤں میں بادل ہیں آج بھی


دواکر راہی

No comments:

Post a Comment