Tuesday, 23 March 2021

اظہار مدعا پہ یہ عالم حجاب کا

اظہارِ مدعا پہ یہ عالم حجاب کا

انداز دیکھے ذرا ان کے جواب کا

تاریخ کا جو موڑ دے رخ اے مورخو

پیغام دے رہا ہوں میں اس انقلاب کا

مجھ کو تِری نگاہِ کرم پر ہے اعتماد

شیخِ حرم کو خوف ہے تیرے عتاب کا

دنیا کی گردشوں نے کیا ہے مجھے سلام

آیا ہے جب بھی سامنے ساغر شراب کا

راہی رہِ طلب میں خضر جیسے ساتھ ہوں

ہم کو ملا ہے آسرا اک ایسے خواب کا


دواکر راہی

No comments:

Post a Comment