Saturday, 19 February 2022

ہزاروں بار کہہ کر بے وفا کو با وفا میں نے

 ہزاروں بار کہہ کر بے وفا کو با وفا میں نے

بتایا ہے زمانے کو وفا کا راستہ میں نے

بڑی عزت سے اہل< جرم میرا نام لیتے ہیں

گنہ گاروں کو اک دن کہہ دیا تھا پارسا میں نے

تم اپنے آپ کو کچھ بھی کہو مذہب کے دیوانو

نہ دیکھا کوئی تم جیسا خدا نا آشنا میں نے

جلا کر ظلمت باطل میں حق کی مشعلیں یارو

زمانے کو بنایا ہے حقیقت آشنا میں نے

غرض دیر و حرم سے ہے نہ مطلب ہے کلیسا سے

جہاں جلوہ نظر آیا تِرا سجدہ کیا میں نے

بہت ہی معتبر ہوں کیوں کہ میں راہی ہوں اے راہی

قسم لے لو اگر خود کو کہا ہو رہنما میں نے


دواکر راہی

No comments:

Post a Comment