Friday, 21 January 2022

اس شہر نگاراں کی کچھ بات نرالی ہے

 اس شہر نگاراں کی کچھ بات نرالی ہے

ہر ہاتھ میں دولت ہے ہر آنکھ سوالی ہے

شاید غم دوراں کا مارا کوئی آ جائے

اس واسطے ساغر میں تھوڑی سی بچا لی ہے

ہم لوگوں سے یہ دنیا بدلی نہ گئی لیکن

ہم نے نئی دنیا کی بنیاد تو ڈالی ہے

اس آنکھ سے تم خود کو کس طرح چھپاؤ گے

جو آنکھ پس پردہ بھی دیکھنے والی ہے

جب غور سے دیکھی ہے تصویر تِری میں نے

محسوس ہوا جیسے اب بولنے والی ہے

دنیا جسے کہتی ہے بے راہروی راہی

جینے کے لیے ہم نے وہ راہ نکالی ہے


دواکر راہی

No comments:

Post a Comment