کوچۂ یار میں مجروحِ دل و جاں ہو کر
سانس لیتا ہوں میں دنیا سے پشیماں ہو کر
زیرِ آوارگئی گردشِ دوراں ہوکر
خود کو سمجھا ہوں مگر چاک گریباں ہو کر
دستِ قدرت سے سنورنے کی توقع رکھوں
یا بکھر جاؤں تِری زلفِ پریشاں ہو کر
شعلۂ آتشِ قربت کی ضرورت کیا تھی
پیار جب تم کو جتانا تھا گریزاں ہو کر
رشتۂ عہدِ وفا کا یہ نتیجہ نکلا
اک تماشہ ہوں میں گرویدۂ جاناں ہو کر
جان لینا ہے تو لے لو نہ بتاؤ مجھ کو
مر نہ جاؤں کہیں شرمندۂ احساں ہو کر
ہائے کس منہ سے کہوں میں ہی تِرا ناظرؔ ہوں
آہ بر لب ہوں جو بادیدۂ گریاں ہو کر
عبداللہ ناظر
No comments:
Post a Comment