کوئی منزل ہے محبت کی نہ جادہ میرا
مجھ سے کیا پوچھ رہے ہیں وہ ارادہ میرا
جس کو قسمت کرے محروم خوشی کیا اسکی
کیوں اڑاتے ہو مذاق اور زیادہ میرا
پُرسکوں رات کی تنہائی نہ دن کے لمحے
دھوپ نے چھین لیا مجھ سے لبادہ میرا
مۓ کدہ چھوٹ گیا جانے کہاں ہے ساقی
دورِ ساغر ہے نہ مشرب ہے نہ بادہ میرا
سب کے سب رنج و الم جھونک دیا کرتے ہیں
دل نہ رہ پائے گا اے دوست کشادہ میرا
غیر مت جان کہ مستغنئ دنیا ہوں میں
بات سیدھی سی ہے اسلوب ہے سادہ میرا
کتنا مشکل ہے سمجھتا نہیں کوئی ناظرؔ
ریگِ صحرا پہ سفر، وہ بھی پیادہ میرا
عبداللہ ناظر
No comments:
Post a Comment