Sunday, 2 October 2022

کس جنوں رت کی نمو آنکھ میں ہے

 کس جنوں رُت کی نمُو آنکھ میں ہے 

اب یہ دل ہے کہ لہو آنکھ میں ہے 

ڈھلتے سائے سے نگہ باندھ کے دیکھ

مستقل میں ہوں، نہ تو آنکھ میں ہے 

زندگی! دو ہی تو چہرے ہیں تِرے

یار دل میں، تو عدو آنکھ میں ہے 

آنکھ اندر کو بھی کُھلتی ہے میاں

یہ سہولت بھی گُرو، آنکھ میں ہے

یہ جو عصیاں کی ندامت ہے ظفر

اس عبادت کا وضو آنکھ میں ہے 


ظفر اقبال(چونیاں والے)

No comments:

Post a Comment