Wednesday, 17 August 2022

یوں تو ہر راہگزر میں منزل ہے

 یوں تو ہر راہگزر میں منزل ہے

کم ہیں جن کی نظر میں منزل ہے

خود سے ملتی نہیں کبھی آ کر

جانے کس کے اثر میں منزل ہے

اب مجھے آسمان دور نہیں

اب مِرے بال و پر میں منزل ہے

اے دلِ گم شدہ مسافر! سُن

اب پلٹ آ کہ گھر میں منزل ہے

راستہ کھل گیا دل و جاں کا

اشک ہیں، چشمِ تر میں منزل ہے

عشق چاہا تو ہے ظفر تُو نے

یہ بتا، اس سفر میں منزل ہے؟


ظفر اقبال(چونیاں والے)

No comments:

Post a Comment