آج ہے اور کل نہیں ہے تُو
یار! مشکل کا حل نہیں ہے تو
اچھے اچھوں کو وقت نے بدلا
نعمتِ بے بدل نہیں ہے تو
میری خوش قسمتی تو ہو شاید
جانے کیوں یہ مجھے ہوا محسوس
زندگی بھر ہے پَل نہیں ہے تو
انبساطِ دل و نظر ہے، مگر
آرزو کا کنول 𐩕 نہیں ہے تو
صائمہ آفتاب
No comments:
Post a Comment