Tuesday, 11 January 2022

دریا پیار کا سوکھ گیا تو شہر یہ چولستان ہوا

 دریا پیار کا سُوکھ گیا تو شہر یہ چولستان ہوا

آندھی ایسی ہجر کی اُٹھی باغ بھی ریگستان ہوا

جن پر آتے جاتے ہم کو چاندنی راتوں نے دیکھا

سُونا سُونا وہ پنگھٹ ہے،۔ رستہ وہ سُنسان ہوا

مانا کہ کچھ طاق نہیں ہو پائے دنیاداری میں

کتنے دُکھ کی بات ہے لیکن عشق میں بھی نقصان ہوا

ہنستے بستے گھر کے آنگن میں ہریالی آنی تھی

وقت نے دُھول اڑائی، اپنا خواب نگر ویران ہوا

گئے زمانے کے فرسودہ، گِھسے پٹے افسانے ہیں

جاناں تُو بے کار وفا کے چکر میں ہلکان ہوا

تھوڑی دیر رُکا، سستایا اور پھر اپنی راہ لگا

دل کیا ایک سرائے تھا کہ ہر کوئی مہمان ہوا

جس بے درد نے اکثر ہم کو ٹھیس بہت پہنچائی تھی

فردا جب برباد ہوئے ہم،۔ کتنا وہ حیران ہوا


صائمہ آفتاب

No comments:

Post a Comment