Tuesday, 11 January 2022

دیکھا تو خوب دھوپ بھری تھی مکان میں

 دیکھا تو خوب دھوپ بھری تھی مکان میں

سایہ تو نام کو بھی نہ تھا سائبان میں

دنیا سے ڈر کے خول میں اپنے سمٹ گئے

ہم خود ہی بند ہو گئے جلتے مکان میں

وہ میکس فیکٹر سے سجائے ہوئے بدن

قوسِ قزح تنی ہوئی کالج کے لان میں

چلتا ہوں ٹھیر ٹھیر کے زخموں کی دھوپ میں

مرہم کا کوئی ابر نہیں آسمان میں

صورت گرو! اتار دو ان کا لباسِ سنگ

کتنے حسین جسم چھپے ہیں چٹان میں

میں تو سروش لمس کی خوشبو میں کھو گیا

کچھ کہہ کے وہ چلا بھی گیا میرے کان میں


حامد سروش

No comments:

Post a Comment