دیکھا تو خوب دھوپ بھری تھی مکان میں
سایہ تو نام کو بھی نہ تھا سائبان میں
دنیا سے ڈر کے خول میں اپنے سمٹ گئے
ہم خود ہی بند ہو گئے جلتے مکان میں
وہ میکس فیکٹر سے سجائے ہوئے بدن
قوسِ قزح تنی ہوئی کالج کے لان میں
چلتا ہوں ٹھیر ٹھیر کے زخموں کی دھوپ میں
مرہم کا کوئی ابر نہیں آسمان میں
صورت گرو! اتار دو ان کا لباسِ سنگ
کتنے حسین جسم چھپے ہیں چٹان میں
میں تو سروش لمس کی خوشبو میں کھو گیا
کچھ کہہ کے وہ چلا بھی گیا میرے کان میں
حامد سروش
No comments:
Post a Comment