ستارہ ڈوبنے کا گیت
ذرا آہستہ کروٹ لو، ستارہ ڈوب جائے گا
کسی دیوار کا سایہ سرک کر پاس آئے گا
بہیں گے خواب میں آنسو، رکا ہے وقت گھڑیوں میں
بڑی چُپ ہے تمہارے شہرِ نا پُرساں کی گلیوں میں
ستارہ ڈوبنے دو، زخم دوبارہ ہرے ہو لیں★
کسی کنجِ قفس، سر بہ زانو، دو گھڑی رو لیں
خزانے غفلتوں کے اور نسیاں کی شہنشاہی
پلوں پر نیند میں چلتے ہوئے بے خانماں راہی
سلیم الرحمٰن
No comments:
Post a Comment