نئے سفر میں تجسس کی نیند سوتے ہوئے
بہت قریب تھے ہم دل سے دور ہوتے ہوئے
وضو کے ساتھ محبت سے دل بھرا ہوا تھا
بوقتِ فجر گُناہوں کا میل دھوتے ہوئے
سمے کو پھاند کے دُکھ کا ازالہ ہو نہ سکا
گُزر گئی تھی سٹیشن سے ریل سوتے ہوئے
کُھرچ رہے تھے وہ اک دوسرے کے دل کا غبار
بہت اُداس تھے اک دوسرے کو کھوتے ہوئے
سُنہرے گالوں پہ اشکوں کا نم جما ہوا تھا
گُزر چکی تھی شبِ اعتبار روتے ہوئے
غموں کا بار اُٹھا کر بھی مُسکرا رہے تھے
ہم ایک نام کی خُوشبو کا لمس ہوتے ہوئے
حنا عنبرین
No comments:
Post a Comment