Tuesday, 11 January 2022

نئے سفر میں تجسس کی نیند سوتے ہوئے

 نئے سفر میں تجسس کی نیند سوتے ہوئے

بہت قریب تھے ہم دل سے دور ہوتے ہوئے

وضو کے ساتھ محبت سے دل بھرا ہوا تھا

بوقتِ فجر گُناہوں کا میل دھوتے ہوئے

سمے کو پھاند کے دُکھ کا ازالہ ہو نہ سکا

گُزر گئی تھی سٹیشن سے ریل سوتے ہوئے

کُھرچ رہے تھے وہ اک دوسرے کے دل کا غبار

بہت اُداس تھے اک دوسرے کو کھوتے ہوئے

سُنہرے گالوں پہ اشکوں کا نم جما ہوا تھا

گُزر چکی تھی شبِ اعتبار روتے ہوئے

غموں کا بار اُٹھا کر بھی مُسکرا رہے تھے

ہم ایک نام کی خُوشبو کا لمس ہوتے ہوئے


حنا عنبرین

No comments:

Post a Comment